Tafsir As-Saadi
2:222 - 2:223

اور سوال کرتے ہیں آپ سے حیض کے بارے میں، کہہ دیجیے! وہ گندگی ہے، پس الگ رہو تم عورتوں سے حیض میں، اور نہ قربت (صحبت) کرو تم ان سے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پس جب وہ پاک ہو جائیں، تو آؤ ان کے پاس جہاں سے حکم دیا تم کو اللہ نے، بے شک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتا ہے پاک صاف رہنے والوں کو(222) تمھاری عورتیں کھیتی ہیں تمھارے لیے، پس آؤ تم اپنی کھیتی میں جس طرح سے چاہو،اورآگے بھیجو (نیک عمل) واسطے اپنے نفسوں کے،اور ڈرو تم اللہ سے اور جان لو بلاشبہ تم ملنے والے ہو اللہ سے،اور خوشخبری سنا دیجیے مومنوں کو(223)

[222] اللہ تعالیٰ حیض کے بارے میں اہل ایمان کے اس سوال سے آگاہ فرماتا ہے کہ آیا ایام حیض کے شروع ہونے کے بعد عورت سے اسی طرح اختلاط رکھا جائے جس طرح ایام حیض سے قبل تھا۔ یا اس سے مطلقاً اجتناب کیا جائے جیسے یہودی کیا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ حیض ایک نجاست ہے۔ جب حیض ایک نجاست ہے تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس نجاست سے روک کر اس کی حدود مقرر کر دے، اس لیے فرمایا ﴿فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الۡمَحِيۡضِ﴾ ’’پس ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔‘‘ یعنی مقام حیض سے دور رہو۔ اور اس سے مراد شرم گاہ میں مجامعت ہے اور اس مجامعت کے حرام ہونے پر اجماع ہے اور حیض کے دوران مجامعت سے دور رہنے کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شرم گاہ میں مجامعت کے سوا عورت کے ساتھ اختلاط اور اس کو ہاتھ سے چھونا جائز ہے البتہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تَقۡرَبُوۡهُنَّ حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ﴾ ’’جب تک پاک نہ ہو جائیں ان سے مقاربت نہ کرنا۔‘‘ عورت کے ساتھ ایسے اختلاط کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے جو فرج کے قریب یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان ہو۔ اس قسم کے اختلاط کو ترک کر دینا چاہیے۔ نبی اکرمﷺجب کبھی اپنی کسی بیوی کے ساتھ اختلاط کرنا چاہتے تو اسے ازار پہننے کا حکم دیتے تب اس کے ساتھ اختلاط کرتے۔(صحیح بخاری، الحيض، باب مباشرۃ الحائض، حديث:302) اور بیوی سے دور رہنے اور حیض کی وجہ سے قریب نہ جانے کی حد ﴿حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں‘‘ مقرر فرمائی ہے۔ یعنی جب حیض کا خون منقطع ہو جائے تو وہ مانع زائل ہو جاتا ہے جو جریان حیض کے وقت موجود تھا۔ اس کے جائز ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ (۱) خون کا منقطع ہونا۔ (۲) خون کے منقطع ہونے کے بعد غسل کرنا۔ جب خون منقطع ہو جاتا ہے تو پہلی شرط زائل ہو جاتی ہے اور دوسری شرط باقی رہ جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَاِذَا تَطَهَّرۡنَ﴾ ’’پس جب وہ (حیض سے) پاک ہو جائیں‘‘ یعنی غسل کر لیں ﴿ فَاۡتُوۡهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَؔكُمُ اللّٰهُ﴾ ’’پس تم آؤ ان عورتوں کو، جہاں سے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے‘‘ قُبل یعنی سامنے سے جماع کرو اور دُبر سے اجتناب کرو۔ کیونکہ قُبل (شرم گاہ) ہی کھیتی کا محل و مقام ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ عورت پر غسل فرض ہے اور غسل کی صحت کے لیے خون کا منقطع ہونا شرط ہے۔ اور چونکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور نجاستوں سے ان کی حفاظت ہے اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ﴾ ’’اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو ہمیشہ توبہ کرتے رہتے ہیں ﴿وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ﴾ اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو گناہوں سے پاک رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ حدث اور نجاست سے حسی طہارت کو شامل ہے۔ پس اس آیت سے طہارت کی مطلق مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو طہارت کی صفت سے متصف ہو، اس لیے مطلق طہارت صحت نماز، صحت طواف اور مصحف شریف کو چھونے کے لیے شرط ہے۔ یہ آیت کریمہ معنوی طہارت یعنی اخلاق رذیلہ، صفات قبیحہ اور افعال خسیسہ جیسی معنوی نجاستوں سے طہارت کو بھی شامل ہے۔
[223]﴿نِسَآ ؤُ كُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ١۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ﴾ ’’تمھاری بیویاں، تمھاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتیوں کو جہاں سے چاہو، آؤ‘‘ یعنی تم اپنی بیویوں سے سامنے سے جماع کرو یا پیچھے سے۔ البتہ یہ جماع صرف قُبل (یعنی شرمگاہ) میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہی کھیتی کے اگنے کی جگہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اولاد جنم لیتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دبر (یعنی پیٹھ) میں جماع کرنا حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے ساتھ صرف اسی مقام میں مجامعت کو جائز قرار دیا ہے جو کھیتی (یعنی اولاد) پیدا کرنے کا مقام ہے۔ رسول اللہﷺسے نہایت کثرت سے احادیث مروی ہیں جو دبر میں جماع کی تحریم پر دلالت کرتی ہیں اور جن میں آپ نے اس فعل کے مرتکب پر لعنت فرمائی ہے۔(سنن أبي داود، النکاح، باب فی جامع النکاح، حديث:2162)﴿وَقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اپنے لیے (نیک عمل) آگے بھیجو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے کام سرانجام دے کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور ان نیکیوں میں ایک نیکی یہ بھی ہے کہ مرد اپنی بیوی سے مباشرت کرے، یہ مباشرت اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر اور اولاد کے حصول کی امید کے ساتھ ہو، وہ اولاد جن کے ذریعے سے اللہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام احوال میں تقویٰ اختیار کرو اور اس بارے میں اپنے علم سے مدد لیتے ہوئے تقویٰ کا التزام کرو ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ مُّلٰقُوۡهُ﴾ ’’اور جان لو کہ تم اس (اللہ تعالیٰ) سے ملاقات کرو گے‘‘ اور وہ تمھیں تمھارے اعمال صالحہ وغیرہ کی جزا دے گا ﴿وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور ایمان والوں کو بشارت سنادو۔‘‘ یہاں اس امر کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی بشارت دی گئی ہے تاکہ یہ بشارت کے عموم پر اور اس بات پر دلالت کرے کہ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی بشارت ہے اور ہر بھلائی کا حصول، ہر نقصان سے بچاؤ جو ایمان پر مترتب ہو، وہ بھی اس بشارت میں داخل ہے۔ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور اس چیز کو پسند کرتا ہے جس سے اہل ایمان خوش ہوتے ہیں، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیار کی ہوئی دنیاوی اور اخروی جزا کے حصول کے لیے شوق اور نشاط پیدا کرنا مستحب ہے۔