Tafsir As-Saadi
2:226 - 2:227

واسطے ان لوگوں کے، جو قسم کھا لیتے ہیں اپنی عورتوں (کے پاس جانے) سے، انتظار کرنا ہے چار مہینے، پھر اگر وہ رجوع کر لیں، تو بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(226) اور اگر عزم کر لیں وہ طلاق کا، تو بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(227)

[226] یہ قسم کسی خاص معاملے میں صرف بیوی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ بیوی کے ساتھ مطلق طور پر یا چار مہینے یا اس سے بھی زیادہ کی قید کے ساتھ جماع نہ کرنے کی قسم ہے۔ پس جو کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتا ہے۔ اگر یہ قسم چار ماہ سے کم مدت کے لیے ہے تو یہ عام قسموں میں شمار ہو گی۔ اگر وہ قسم توڑے گا تو اس کا کفارہ ادا کرے گا اور اگر وہ اپنی قسم پوری کرتا ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں اور اس کی بیوی کو اس کے خلاف چارہ جوئی کرنے کا کوئی اختیار نہیں، کیونکہ اس کی بیوی چار ماہ تک اس کی ملک ہے اور اگر اس نے ہمیشہ کے لیے اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے یا قسم کا عرصہ چار ماہ سے زیادہ ہے، ایسی صورت میں جب اس کی بیوی اس سے حق زوجیت کا مطالبہ کرے گی تو اس قسم کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کر دی جائے گی، کیونکہ یہ بیوی کا حق ہے۔ جب چار ماہ کی مدت پوری ہو جائے تو خاوند کو رجوع یعنی مجامعت کا حکم دیا جائے، اگر وہ رجوع کر کےتعلق زوجیت قائم کر لے تو اس پر قسم کے کفارے کے سوا کچھ لازم نہیں اور اگر وہ رجوع کرنے سے انکار کر دے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر پھر بھی طلاق نہ دے تو حاکم طلاق نافذ کر دے گا۔۔۔ البتہ بیوی کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ فَآءُوۡ ﴾ ’’پس اگر وہ رجوع کریں۔‘‘ یعنی جس چیز (تعلق زوجیت) کو چھوڑ دینے کی انھوں نے قسم اٹھائی تھی اگر اس کی طرف دوبارہ لوٹ آئیں۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ﴾ تو قسم اٹھانے کی وجہ سے انھوں نے جس گناہ کا ارتکاب کیا تھا ان کے رجوع کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ وہ بہت رحم کرنے والا ہے کہ اس نے بندوں کی قسموں کو اٹوٹ اور ان پر لازم قرار نہیں دیا، بلکہ ان سے باہر نکلنے کے لیے کفارہ مقرر کیا۔ نیز وہ ان پر اس لحاظ سے بھی مہربان ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں سے رجوع کیا ان سے مہربانی اور شفقت سے پیش آئے۔ (یعنی ان کا رجوع بھی اللہ کی مہربانی ہی کا نتیجہ ہے۔)
[227]﴿ وَاِنۡ عَزَمُوا الطَّلَاقَ﴾ ’’اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرلیں۔‘‘ یعنی اگر وہ رجوع کرنے سے انکار کر دیں تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ انھیں ان میں رغبت نہیں اور وہ ان کو بیوی کے طور پر باقی رکھنا نہیں چاہتے ۔۔۔ اور یہ چیز طلاق کے ارادے کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔ اگر یہ طلاق جو اس پر واجب ہے، کہنے سننے پر بیوی کو حاصل ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ حاکم اس کو طلاق پر مجبور کرے یا خود نافذ کر دے۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو کوئی اللہ کی قسم اٹھاتا ہے اور اس کا مقصد محض ضرر رسانی اور تکلیف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اِیْلاَء بیوی سےمخصوص ہے کیونکہ اس میں مِنْ نِّسَاءِھِمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نیز چار ماہ میں ایک مرتبہ بیوی کے ساتھ مجامعت فرض ہے۔ کیونکہ چارماہ کے بعد یا تو اسے مجامعت پر مجبور کیا جائے گا یا اسے طلاق دینی پڑے گی۔ یہ جبر صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ کسی واجب کو ترک کرے۔