Tafsir As-Saadi
2:254 - 2:254

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم اس میں سے جو دیا ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے وہ دن کہ نہ خرید و فروخت ہوگی اس میں، اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی شفاعت، اور کافر لوگ وہی ہیں ظالم(254)

[254] اللہ کا اپنے بندوں پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حکم دیا ہے کہ اسی کے دیے ہوئے رزق میں سے تھوڑا سا واجب او رمستحب صدقہ پیش کریں تاکہ ان کے لیے ثواب کا ذریعہ ہوجائے اور انھیں اس دن زیادہ ہوکر ملے جس دن ایک ذرہ برابر نیکی کی ضرورت ہوگی تو مل نہیں سکے گی۔ اگر انسان زمین بھر سونا فدیہ کردے تاکہ اس دن کے عذاب سے بچ جائے، تو اس کی یہ پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔ نہ کوئی دوست اس کے کام آسکے گا نہ وجاہت کے ذریعے سے، نہ شفاعت کے ذریعے سے۔اس دن اہل باطل خسارے میں ہوں گے اور ظالم رسوا ہوں گے۔ ظالم وہ ہیں جو ایک چیز کو اس کے محل سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔ پس انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے واجب کو ترک کردیا۔ اور حلال کے بجائے حرام اختیار کیا۔ سب سے بڑا ظلم اللہ کے ساتھ کفر کرنا ہے، یعنی عبادت جو صرف اللہ کا حق ہے۔ کافر اسے اپنی جیسی مخلوق کے لیے کرتا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَالۡكٰفِرُوۡنَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ حصر کے باب سے ہے، یعنی انھوں نے مکمل ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ جیسے ارشاد ہے:﴿ اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ﴾(لقمن:31؍13) ’’بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس کے بعد ارشاد ہے۔