Tafsir As-Saadi
2:282 - 2:283

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں معاملہ کرو ساتھ ادھار کے ایک وقت مقرر تک، تو لکھ لو اسے،اور چاہیے کہ لکھے تمھارے درمیان ایک کاتب ساتھ انصاف کے،اور نہ انکار کرے کاتب اس سے کہ لکھے وہ جس طرح سکھایا اسے اللہ نے، پس چاہیے کہ لکھے وہ، اور چاہیے کہ لکھوائے وہ شخص کہ اوپر اس کے حق(قرض) ہے،اور چاہیے کہ ڈرے وہ، اللہ اپنے رب سے،اور نہ کم کرے اس میں سے کوئی چیز، پھر اگر ہو وہ شخص کہ اوپر اس کے حق (قرض) ہے، بے وقوف یا ضعیف یا نہیں استطاعت رکھتا وہ اس بات کی کہ لکھوائے وہ خود، تو چاہیے کہ لکھوائے مختار اس (مقروض) کا ساتھ انصاف کے،اور گواہ بنا لو تم دو گواہ اپنے (مسلمان) مردوں میں سے، پس اگر نہ ہوں دو مرد تو (گواہی دیں) ایک مرد اور دو عورتیں، ان میں سے جنھیں تم پسند کرتے ہو گواہوں سے، (یہ اس سبب سے) کہ بھول جائے ایک عورت ان دو میں سے تو یاد کرا دے ایک ان میں سے دوسری کو،اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائے جائیں، اور نہ اکتاہٹ ہو تمھیں اس سے کہ لکھو تم اس کو، چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا، اس کے مقرر وقت تک، یہ (لکھنا) زیادہ قرین انصاف ہے نزدیک اللہ کے،اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو،اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ نہ شک میں پڑو تم، مگر یہ کہ ہو سودا ہاتھوں ہاتھ کہ لیتے دیتے ہو تم اسے آپس میں، تو نہیں تم پر کوئی گناہ یہ کہ نہ لکھو تم اس کو،اور گواہ بنا لو جب تم آپس میں سودا کرو،اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو،اور اگر تم ایسا کرو گے تو بے شک یہ نافرمانی ہے (جس کا گناہ ہوگا) تمھیں اور ڈرو اللہ سے،اور تمھیں سکھلاتا ہے اللہ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(282)اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ تم کوئی کاتب، تو رہن (کے طور پر) قبضے میں دے دی جائے (کوئی چیز)، پس اگر امین سمجھے بعض تمھارا بعض کو تو چاہیے کہ ادا کر دے وہ شخص کہ جس کو امین سمجھا گیا ہے، امانت اس کی، اور چاہیے کہ ڈرے وہ اللہ سے اپنے رب سےاور نہ چھپاؤ تم گواہی کو،اور جو شخص چھپائے گا اس (گواہی) کو، تو بلاشبہ وہ شخص، گناہ گار ہے دل اس کا اور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے(283)

[282] یہ آیت ’’آیتِ دَیْن‘‘ (قرض کے مسائل والی آیت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ قرآن مجید کی سب سے طویل آیت ہے۔ اس میں بڑے عظیم مسائل بیان ہوئے ہیں جو بے شمار عظیم فوائد پر مشتمل ہیں۔ (۱) اس سے قرض کی تمام صورتوں مثلاً سلم وغیرہ کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں رائج تھا، اس کے مسائل بیان کیے ہیں، جس سے ان کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (۲۔۳) بیع سلم میں مدت ضروری ہے اور وہ مدت متعین ہونی چاہیے اس لیے نہ تو نقد بیع سلم درست ہے، نہ اس صورت میں جبکہ اس کی مدت مقرر نہ ہو۔ (۴) تمام قرض وغیرہ کے معاملات لکھنا شرعاً مطلوب ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا مستحب۔ اس کی مشروعیت میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور نہ لکھنے کی صورت میں غلطی، بھول، اختلاف اور جھگڑا واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ (۵) کاتب کو حکم ہے کہ وہ لکھے۔ (۶) کاتب کو عادل (قابل اعتماد) ہونا چاہیے، تاکہ اس کی تحریر پر اعتبار کیا جاسکے۔ فاسق کے نہ قول کا اعتبار ہے نہ لکھنے کا۔ (۷) کاتب پر فرض ہے کہ فریقین کے درمیان انصاف سے کام لے۔ وہ رشتہ داری، دوستی وغیرہ کی وجہ سے کسی ایک فریق کی طرف مائل نہ ہو۔ (۸) کاتب کا ایسی تحریریں لکھنے کے طریق کار سے، اور فریقین کے لیے جو کچھ واجب ہے اور جس چیز سے تحریر قابل اعتماد بنتی ہے ان سب امور سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ ان مسائل کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے ﴿ وَلۡيَكۡتُبۡ بَّيۡنَؔكُمۡ كَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمھارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے‘‘ (۹) جب کوئی ایسی تحریر موجود ہو، جس کی کتابت معروف عادل (قابل اعتماد) آدمی کے ہاتھ کی ہو، تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ اگرچہ لکھنے والا اور گواہ فوت ہوچکے ہوں۔ (۱۰)اللہ نے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡبَ كَاتِبٌ اَنۡ يَّؔكۡتُبَ ﴾ ’’اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے‘‘ یعنی جس پر اللہ نے یہ احسان کیا ہے کہ اسے لکھنے کا علم عطافرمایا ہے، اسے بھی اللہ کے ان بندوں پر احسان کرنا چاہیے جو اس سے لکھوانے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا ان کو لکھ کر دینے سے انکار نہ کرے۔ (۱۱) کاتب کو حکم ہے کہ صرف وہی چیز لکھے، جس کو وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق ہے۔ (۱۲) فریقین میں سے لکھوانے کی ذمہ داری اس کی ہے جس کے ذمہ قرض ہے۔ (۱۳) اسے حکم ہے کہ پورا حق بیان کرے، اس میں کچھ نہ چھپائے۔ (۱۴) انسان کا اپنے بارے میں اقرار شرعاً معتبر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقروض کو حکم دیا ہے کہ وہ کاتب کو لکھوائے، جب وہ اس کے اقرار کے مطابق لکھے گا تو اس کا مضمون اور اس کے نتائج بھی معتبر ہوں گے۔ اگرچہ بعدمیں غلطی لگ جانے کا یا بھول جانے کا دعویٰ کرے۔ (۱۵) قول اس کا معتبر ہوگا جس کے ذمے کوئی حق ہے کہ بیع شدہ چیز کی مقدار، صفت، قلت، کثرت اور مقررہ مدت کیا ہے۔ جس کا حق ہے (قرض خواہ) اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے کہ جتنا حق ہے، اس سے کم نہ لکھوائے، اس کی وجہ یہی ہے کہ مقدار اور وصف میں اس کا قول معتبر ہے۔ (۱۶) جس کے ذمہ حق ہے اس پر حرام ہے کہ مقدار میں، عمدگی اور ظاہری اچھائی میں یا مدت وغیرہ میں کمی کرے۔ (۱۷) جو شخص کسی عذر مثلاً کم سنی، کم عقلی، گونگا پن وغیرہ۔ کی وجہ سے خود نہ لکھوا سکے تو لکھوائے، اور اقرار کاکام اس کا سرپرست اس کا نائب ہونے کی حیثیت سے کرے گا۔ (۱۸) جو عدل اس پر واجب ہے جس کے ذمے حق ہے، وہی عدل اس کے سرپرست پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’عدل کے ساتھ‘‘ (۱۹) سرپرست کا عادل ہونا شرط ہے۔ کیونکہ عدل کے ساتھ لکھوانا فاسق سے نہیں ہوسکتا۔ (۲۰) مالی معاملات میں سرپرستی کاثبوت۔ (۲۱) حق بچے، کم عقل، مجنون اور کمزور کے ذمے واجب ہوتا ہے اس کے سرپرست کے ذمے نہیں ہوتا۔ (۲۲) بچے، کم عقل، مجنون وغیرہ کا اقرار اور تصرف صحیح نہیں کیونکہ اللہ نے لکھوانے کی ذمہ داری ولی (سرپرست) پر ڈالی ہے۔ ان معذور افراد کے ذمہ نہیں۔ اس میں ان پر لطف و رحمت ہے، اور ان کے مال کا ضائع ہونے سے بچاؤ ہے۔ (۲۳) مذکورہ افراد کے مال میں ولی (سرپرست) کا تصرف (قانوناً) درست ہے۔ (۲۴) انسان کے لیے ایسے معاملات کا جاننا مشروع ہے جس سے قرض کا لین دین کرنے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد رہتا ہے۔ لہٰذا اصل مقصود معاملے کا قابل اعتبار رکھنا اور انصاف ہے۔ اور جس عمل کے بغیر مشروع کام پر عمل نہ کیا جاسکے، وہ عمل بھی مشروع ہوتا ہے۔ (۲۵)کتابت سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرض وغیرہ کے معاملات لکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کام کتابت سیکھے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (۲۶) لین دین کے معاہدوں پر گواہ بنانا مشروع ہے۔ اور یہ مشروعیت مندوب کے درجے میں ہے۔ کیونکہ اس حکم کا مقصد حقوق کی حفاظت کا طریقہ بتانا ہے۔ اور اس میں آخر کار مکلف افراد ہی کا فائدہ ہے۔ ہاں اگر تصرف کرنے والا یتیم کا سرپرست ہو یا کسی وقف کا نگران ہو یا اسی قسم کا کوئی معاملہ ہو جس کی حفاظت واجب ہو۔ تب حق کو محفوظ رکھنے والی یہ گواہی واجب ہوجائے گی۔ (۲۷) مالی معاملات میں گواہوں کی کم از کم مطلوب تعداد یہ ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی ایک قسم سے بھی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ (۲۸) بچوں کی گواہی معتبر نہیں۔ کیونکہ (رجل) ’’مرد‘‘ کے لفظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ (۲۹) مال وغیرہ کے معاملات میں صرف عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مرد کے ساتھ ہی گواہ کے طورپر قبول کیا ہے۔ البتہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عورتوں کو ایک مرد کے قائم مقام اس حکمت کی وجہ سے قرار دیا ہے جو آیت میں مذکور ہے۔ اور یہ حکمت مرد کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ (۳۰) بالغ غلام کی گواہی بھی بالغ آزاد لوگوں کی طرح مقبول ہے، کیونکہ اللہ کے اس فرمان میں عموم ہے:﴿ وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے مردوں میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔‘‘اور بالغ غلام ’’ہمارے مردوں‘‘ میں شامل ہے۔ (۳۱) غیر مسلم مرد ہوں یا عورتیں، ان کی گواہی قبول نہیں، کیونکہ وہ ہم میں شامل نہیں۔ علاوہ ازیں گواہی کا دارومدار ’’عدل‘‘ (نیک قابل اعتماد) ہونے پر ہے اور غیر مسلم ’’عدل‘‘ نہیں۔ (۳۲) اس سے مرد کا عورت سے افضل ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایک مرد کو دو عورتوں کے مقابلے میں رکھا گیا ہے کیونکہ مرد کا حافظہ مضبوط ہوتا ہے، عورت کا کمزور ۔ (۳۳) جو شخص گواہی بھول جائے اور اسے یاد دلانے پر یاد آجائے، تو اس کی گواہی قبول ہے کیونکہ ارشاد ہے:﴿ فَتُذَكِّرَ اِحۡدٰؔىهُمَا الۡاُخۡرٰى ﴾ ’’ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلادے‘‘ (۳۴) اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جب گواہ کو واجب حقوق سے تعلق رکھنے والی گواہی بھول جانے کا خطرہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ اسے لکھ لے۔ کیونکہ جس عمل کے بغیر واجب ادا نہ ہوسکے، وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ (۳۵) جب گواہ کو گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو اگر اسے کوئی عذر لاحق نہ ہو تو اسے گواہی دینا واجب ہے۔ اس سے انکار کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَا يَاۡبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ﴾ ’’اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔‘‘ (۳۶) جس شخص میں ایسی صفات موجود نہ ہوں جن کی بنیاد پر گواہی قبول کی جاتی ہے، تو اسے گواہی کے لیے حاضر ہونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور وہ گواہوں میں شامل بھی نہیں۔ (۳۷) قرض چھوٹے ہوں یا بڑے سب لکھنے چاہئیں۔ مدت اور شروط و قیود لکھنا بھی ضروری ہیں۔ اس سے اکتاہٹ کا اظہار کرنا ممنوع ہے۔ (۳۸) آیت معاملات میں تحریر اور گواہی کی حکمت بیان کرتی ہے۔ ارشاد ہے: ﴿ ذٰلِكُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ وَاَقۡوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدۡنٰۤى اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا ﴾ ’’اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اور گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و شبہ سے زیادہ بچانے والی ہے‘‘ یعنی اس میں انصاف پایا جاتا ہے جس سے بندوں کے اور سب کے معاملات درست رہتے ہیں اور تحریری شہادت زیادہ پختہ، زیادہ کامل، شک و شبہ سے زیادہ دور رکھنے والی۔ جھگڑے سے بچانے والی ہے۔ (۳۹) اس سے یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جسے گواہی میں شک ہوجائے، اسے گواہی دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے لیے یقین ضروری ہے۔ (۴۰) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيۡرُوۡنَهَا بَيۡنَؔكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَكۡتُبُوۡهَا ﴾ اگر تجارت دست بدست اور نقد ہو تو نہ لکھنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس میں تحریر کی ضرورت اتنی شدید نہیں۔ (۴۱)نقد لین دین میں تحریر نہ کرنا تو جائز ہے۔ تاہم اس میں گواہ بنانا مشروع ہے کیونکہ فرمایا: ﴿ وَاَشۡهِدُوۡۤا اِذَا تَبَايَعۡتُمۡ ﴾ ’’خریدوفروخت کے وقت گواہ مقرر کرلیا کرو۔‘‘ (۴۲) کاتب کو تنگ کرنا منع ہے۔ مثلاً اسے اس وقت طلب کیا جائے جب وہ کسی اور کا م میں مشغول ہو یا جس وقت اسے حاضر ہونے میں مشقت ہو۔ (۴۳)گواہ کو بھی تنگ کرنا منع ہے مثلاً اسے اس وقت گواہ بننے کے لیے یا گواہی دینے کے لیے بلایا جائے جب وہ بیمار ہو یا ایسے کام میں مشغول ہو، جسے چھوڑ کر آنے میں پریشانی اور مشقت ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب ﴿ وَلَا يُضَآرَّؔ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيۡدٌ ﴾ ’’نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو‘‘ میں لفظ (یُضَآرُّ) کو مجہول قرار دیا جائے۔ اور اگر اسے فعل معروف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ گواہ اور کاتب کے لیے صاحب حق کو تنگ کرنے کے لیے گواہی یا کتابت سے انکار کرنا یا بہت زیادہ اجرت طلب کرنا منع ہے، اس صورت میں انھیں فائدہ نمبر۴۴ اور نمبر۴۵ شمار کیا جاسکتا ہے۔ (۴۶) ان حرام کاموں کا ارتکاب فسق ہے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ وَاِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’اگر تم یہ کرو تو یہ تمھاری کھلی نافرمانی ہے۔‘‘ (۴۷) فسق، ایمان، نفاق، عداوت، محبت وغیرہ جیسے اوصاف کسی بھی انسان میں کم یا زیادہ مقدار میں ہوسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک آدمی میں فسق وغیرہ کا مادہ موجود ہو اور اسی طرح ایمان یا کفر کا مادہ موجود ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:﴿ فَاِنَّهٗ فُسُوۡقٌۢ بِكُمۡ ﴾ ’’یہ تمھارے اندر نافرمانی ہے‘‘ یہ نہیں فرمایا: (فَأَنْتُمْ فَاسِقُونَ) ’’تم فاسق ہو‘‘ (۴۸) یہ نکتہ پہلے بیان ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہاں اس کی مناسب جگہ تھی۔ وہ یہ ہے کہ گواہ عادل (نیک اور قابل اعتماد) ہونا چاہیے کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ ﴾ ’’جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرو۔‘‘ (۴۹) عدالت (قابل اعتماد ہونا)، اس میں ہر زمانے اور ہر مقام کا عرف معتبر ہے۔ جو شخص لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ (۵۰) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا عادل یا فاسق ہونا معلوم نہ ہو۔ اس کی گواہی بھی قبول نہیں، حتیٰ کہ اس کے نیک ہونے کی تصدیق ہوجائے۔ موجود حالات میں ناقص سمجھ کے مطابق یہ مسائل اخذ کیے گئے ہیں۔ اللہ کے کلام میں اور بہت سی حکمتیں اور اسرار ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ان کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
[283] آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو، ﴿ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا ﴾ ’’اور تمھیں کاتب نہ ملے‘‘ جو تمھارے لیے تحریر لکھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے ﴿ فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ﴾ ’’تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔‘‘ صاحب حق (قرض خواہ) اسے قبضہ میں رکھے، اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طورپر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر رہن (گروی رکھی ہوئی چیز) پر قرض خواہ کا قبضہ نہ ہو تو اس سے ضمانت نہیں بنتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنا دیا ہے۔ اگر رہن شدہ چیز کی قیمت کے بارے میں مرتہن کی بات نہ مانی جائے تو رہن کا مقصود (اعتماد اور اطمینان) حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ رہن کا مقصد اعتماد و اعتبار ہے، اس لیے یہ سفر اور حضر (دونوں صورتوں) میں جائز ہے۔ آیت میں سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت سفر میں زیادہ پیش آسکتی ہے کیونکہ سفر میں ہوسکتا ہے کاتب میسر نہ ہو۔ یہ حکم تب ہے کہ جب صاحب حق (قرض خواہ) اپنے حق (قرض) کے بارے میں تسلی کرنا چاہتا ہے۔ اگر صاحب حق کو مقروض سے کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ بغیر رہن کے معاملہ کرنا چاہے تو مقروض کو چاہیے کہ قرض پورا پورا ادا کرے۔ نہ ظلم کرے نہ اس کی حق تلفی کرے ﴿وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔‘‘ حق ادا کرے۔ اور جس نے اس کے بارے میں حسن ظن رکھا۔ اس کی نیکی کا اچھا بدلہ دے۔ ﴿ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ﴾ ’’اور گواہی کو مت چھپاؤ۔‘‘ کیونکہ حق کا دارومدار گواہی پر ہے۔ اس کے بغیر حق ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسے چھپانا عظیم ترین گناہ ہے۔ کیونکہ اس نے سچی بات بتانے کا فریضہ ترک کرکے جھوٹ بولا۔ جس کے نتیجے میں حق والے کا حق مارا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَؔ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور جو کوئی اسے چھپالے، وہ گناہ گار دل والا ہے۔ اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ اللہ نے ا پنے بندوں کو یہ جو عمدہ مسائل بتائے ہیں ان میں بہت سی حکمتیں اور عام فوائد موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر بندے اللہ کی ہدایات پر عمل کریں تو ان کا دین درست ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جائے۔ کیونکہ ان میں انصاف، فائدہ، حقوق کی حفاظت اور لڑائی جھگڑے کا خاتمہ، اور معاشی معاملات کی درستی پائی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے جیسے اس کے چہرہ اقدس کے جلال اور عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ ہم اس کی کماحقہ تعریف کرنے سے قاصر ہیں۔