Tafsir As-Saadi
20:9 - 20:15

اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘