طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘