Tafsir As-Saadi
2:273 - 2:274

(یہ صدقہ) واسطے ان ضرورت مندوں کے ہے جو روک دیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں، نہیں استطاعت رکھتے وہ چلنے پھرنے کی زمین میں، گمان کرتا ہے ان کو ناواقف، مال دار، ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے، آپ پہچان لیں گے ان کو ان کے چہرے کی علامات سے، نہیں سوال کرتے وہ لوگوں سے چمٹ کراور جو خرچ کرو تم مال سے، تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(273)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات اور دن میں، پوشیدہ اور ظاہر، تو واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(274)

[273] اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (۱) فقر اور تنگ دستی۔ (۲)﴿ اُحۡصِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لیے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ (۳) رزق کی تلاش کے لیے سفر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ ضَرۡبًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی روزی کمانے کے لیے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (۴)﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ مِنَ التَّعَفُّفِ ﴾ ’’نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انھیں مال دار خیال کرتے ہیں۔‘‘ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (۵) اللہ نے فرمایا: ﴿ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طورپر ذکر کی ہے۔ اور یہ ارشاد ﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ ﴾ نادانوں کے انھیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انھیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (۶)﴿لَا يَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ﴾ یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انھیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر و ثواب ملے گا، اس لیے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہر حال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔
[274] چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتے ﴿ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔‘‘ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’انھیں نہ خوف ہوگا‘‘ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ ﴾ ’’اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے۔ تو یہ اپنااصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کرکے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔