اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔