Tafsir As-Saadi
20:42 - 20:46

جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔