Tafsir As-Saadi
20:95 - 20:97

موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)

[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا: