Tafsir As-Saadi
20:49 - 20:55

فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)

[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔