Tafsir As-Saadi
20:56 - 20:73

اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)

[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔