بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘
[76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔