اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79)
[79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔