Tafsir As-Saadi
20:83 - 20:86

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)

[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔
[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔