Tafsir As-Saadi
20:90 - 20:94

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)

[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: