Tafsir As-Saadi
20:105 - 20:112

اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)

[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘