پس بلند تر ہے اللہ بادشاہ برحق اور نہ جلدی کریں آپ قرآن پڑھنے میں ، پہلے اس سے کہ پوری کی جائے آپ کی طرف وحی اس کی اور کہیں ، اے میرے رب! زیادہ کر مجھے علم میں (114)
[114] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم جزائی کا ذکر کیا جس سے اس کے بندے دوچار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آثار ہیں تو فرمایا ﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے پاک، بلند اور جلیل تر ہے ﴿ الۡمَلِكُ﴾ اقتدار، حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے قدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں ۔ ﴿ الۡحَقُّ﴾ یعنی اس کا وجود، اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہو سکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات، اس کے سوا مخلوق بھی، بعض اشیاء پر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے مگر یہ اقتدار ناقص اور باطل ہے جو زائل ہو جانے والا ہے… مگر رب تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بادشاہ حقیقی، جلال کا مالک اور قائم و دائم رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ ﴾ یعنی جب جبریل آپﷺ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اخذ کرنے میں جلدی نہ کیجیے اس وقت تک صبر کیجیے جب تک کہ وہ تلاوت سے فارغ نہ ہو جائے۔ جب وہ تلاوت سے فارغ ہو جائے تب اس کو پڑھیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آپﷺ کے سینے میں جمع کرنے اور آپ کے اس کی قراء ت کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ۰۰اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚۖ۰۰فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗۚ۰۰ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾(القیامۃ:75؍16-19) ’’جلدی سے وحی پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے، اس کو جمع کرنا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے اور جب ہم اس وحی کو پڑھیں تو آپ اسی طرح پڑھا کریں پھر اس کے معانی کی تبیین و توضیح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ چونکہ وحی کو اخذ کرنے کے لیے آپﷺ کی عجلت دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ کامل محبت رکھتے تھے اور اس کے حصول کے بے حد خواہش مند تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے ازدیاد علم کی دعا کریں کیونکہ علم بھلائی ہے اور بھلائی کی کثرت مطلوب ہے اور یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کا راستہ کوشش، شوق علم، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا، اس سے مدد مانگنا اور ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے حصول علم کے آداب اخذ کیے جاتے ہیں ۔ علم کی سماعت کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ صبر سے کام لے یہاں تک کہ املا کرانے والا اور معلم اپنے کلام سے فارغ ہو جائیں جو لگاتار اور مسلسل ہے۔ اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ اس وقت کیا جائے جب معلم فارغ ہو جائے۔ معلم کی قطع کلامی اور سوال کرنے میں عجلت سے باز رہے کیونکہ یہ حرماں نصیبی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسؤل کے لیے مناسب ہے کہ وہ سائل کے سوال کو لکھ لے اور جواب دینے سے قبل سائل کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ صحیح جواب کا سبب ہے۔