اور اسی طرح نازل کیاہم نے اس (قرآن) کو قرآن عربی اور پھیر پھیر کر بیان کیں ہم نے اس میں وعیدیں تاکہ وہ تقوی اختیار کریں یا پیدا کردے (قرآن) ان کے لیے نصیحت (113)
[113] یعنی اسی طرح ہم نے اس کتاب کو فضیلت والی عربی زبان میں نازل کیا ہے جس کو تم خوب سمجھتے ہو اور اس میں کامل تفقُّہ رکھتے ہو اور اس کے الفاظ و معانی تم پر مخفی نہیں ہیں ۔ ﴿ وَّصَرَّفۡنَا فِيۡهِ مِنَ الۡوَعِيۡدِ﴾ یعنی اس کتاب میں ہم نے وعید کو بہت سی انواع کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کبھی تو ان اسماء کے ذریعے سے بیان کیا ہے جو عدل و انتقام پر دلالت کرتے ہیں ، کبھی اس عبرت ناک عذاب کے ذکر کے ذریعے سے اس وعید کو بیان کیا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا اور حکم دیا کہ آنے والی امتیں اس سے عبرت حاصل کریں اور کبھی گناہوں کے آثار اور ان سے پیدا ہونے والے عیوب کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے دل کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی جہنم کے مناظر اور اس میں دیے جانے والے مختلف انواع کے عذاب اور عقوبتوں کا ذکر کر کے اس وعید کو بیان کیا ہے۔اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کی وجہ سے ہے، شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور گناہوں اور معاصی کو چھوڑ دیں جن سے ان کو نقصان پہنچتا ہے۔ ﴿ اَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرًا ﴾ یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے اور یہ لوگ نیک عمل کرنے لگیں جو ان کو فائدہ دیں … پس اس کتاب کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وعید کا مختلف طریقوں سے بیان ہونا، عمل صالح کا سب سے بڑا سبب اور سب سے بڑا داعی ہے۔ اگر یہ عظیم کتاب عربی زبان میں نہ ہوتی یا اس میں وعید کو مختلف انواع میں بیان نہ کیا گیا ہوتا تو اس میں یہ تاثیر نہ ہوتی۔