اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔