اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130)
[129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔
[130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔