Tafsir As-Saadi
21:1 - 21:4

قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4)

[1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾
[3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔
[4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔