Tafsir As-Saadi
21:5 - 21:6

بلکہ انھوں نے کہا ، پراگندہ خواب ہیں بلکہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اسےبلکہ وہ شاعر ہے، پس چاہیے کہ لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسا کہ بھیجے گئے تھے پہلے (پیغمبر)(5) نہیں ایمان لائے ان سے پہلے کوئی بستی (والے) کہ ہلاک کیا ہم نے انھیں ، کیا پس وہ (اب) ایمان لے آئیں گے؟ (6)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ پراگندہ خواب ہیں ‘‘ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ اس کا من گھڑت کلام ہے‘‘ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ’’یہ شاعر ہے‘‘ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسولﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں ، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں ۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا:﴿ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔‘‘ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰu کا عصااور اس جیسے معجزات۔
[6] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا١ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟‘‘ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں ) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔