اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘
[13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔
[14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘
[15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔