اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9)
[9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔