Tafsir As-Saadi
21:31 - 21:33

اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33)

[31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔
[33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔