Tafsir As-Saadi
21:34 - 21:35

اور نہیں کیا ہم نے کسی بشر کے لیے آپ سے پہلے ہمیشہ رہنا، کیا پس اگر آپ مر جائیں تو (کیا) وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ (34) ہر نفس چکھنے والا ہے (تلخی) موت کی اور ہم آزماتے ہیں تمھیں ساتھ برائی اور اچھائی کے خوب آزمانا اور ہماری طرف ہی تر لوٹائے جاؤ گے (35)

[34] رسول اللہﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس(ﷺ) کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں ۔ ﴿ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ ﴾ ’’اے محمد! (ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔‘‘ اگر آپﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾ یعنی اگر آپﷺ وفات پا جائیں گے تو کیا آپﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔
[35] اس لیے فرمایا: ﴿كُلُّ نَفۡسٍ ذَآىِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے، آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا كيے ان کو خیروشر، غناوفقر، عزت و ذلت اور موت و حیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا:﴿ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا اچھی ہو گی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہو گی۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ:41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر u کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔