Tafsir As-Saadi
21:36 - 21:41

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41)

[36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
[37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
[38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
[39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
[40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
[41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔