Tafsir As-Saadi
21:51 - 21:73

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73)

[51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
[52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
[53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
[54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
[55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
[56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟
[57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
[58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘
[59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
[60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
[61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘
[62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
[63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔
[64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
[65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
[66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘
[67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
[68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
[69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
[70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
[71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
[72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
[73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔