Tafsir As-Saadi
21:78 - 21:82

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82)

[78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔
[79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔
[80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔
[81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔
[82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔