اور (یاد کیجیے) ایوب کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک پہنچی ہے مجھے تکلیف، او ر تو زیادہ رحم کرنے والوں سے (83) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی، پھر ہٹا دی ہم نے جو کچھ کہ تھی اسے کوئی تکلیف اور دیا ہم نے اسے اہل (کنبہ) اس کا اورمثل ان کے اور لوگ بھی ساتھ ان کے، رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اور نصیحت ہے عبادت کرنے والوں کے لیے (84)
[83] یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (u) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدرو منزلت بڑھاتے ہوئے ذکرکیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اللہ سے راضی پایا… اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کر دیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب نے اپنے رب کو پکارا:﴿ اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔
[84] ان کے رب نے اپنی بے پایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا: ﴿ اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ١ۚ هٰؔذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ﴾(ص:38؍42) ’’زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔‘‘ ایوب u نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی۔ ﴿وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ ﴾ یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیے ﴿ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔‘‘ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔‘‘ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے عبرت بنا دیا جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب u کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب u کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾(ص:38؍44) ’’ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوبu کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں ۔