Tafsir As-Saadi
21:106 - 21:112

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112)

[106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔
[107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
[108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔
[110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔
[111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔
[112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔