Tafsir As-Saadi
21:104 - 21:105

(یاد کیجیے) جس دن لپیٹیں گے ہر آسمان کو مانند لپیٹنے کاغذ کے جو لکھا ہوا ہو جس طرح پہلے پہل کی تھی ہم نے پہلی (مرتبہ) پیدائش (اسی طرح) ہم لوٹائیں گے اس کو، وعدہ ہے ہمارے ذمے، بلاشبہ ہم ہیں کرنے والے (104) اور البتہ تحقیق لکھی ہے ہم نے زبور میں بعد نصیحت کے (یہ بات کہ) بے شک زمین، وارث ہوں گے اس کے میرے بندے نیک (105)

[104] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو… ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمام ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ ﴿كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔﴿وَعۡدًا عَلَيۡنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لیے ناممکن نہیں ۔
[105] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي الزَّبُوۡرِ ﴾ ’’اور ہم نے لکھا زبور میں ۔‘‘ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً:تورات وغیرہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ ﴾ ’’ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔‘‘ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ﴿ اَنَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’بلاشبہ زمین‘‘ یعنی جنت کی زمین ﴿ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔‘‘ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا: ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾(الزمر:39؍74) ’’ہر قسم کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔‘‘