اور بعض لوگوں میں سے وہ ہے جو جھگڑا کرتا ہے اللہ کی بابت بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے (8) درآنحالیکہ وہ موڑنے والا ہے اپنا پہلو تاکہ گمراہ کرے وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہےاور ہم چکھائیں گے اسے دن قیامت کے عذاب جلانے والا (9) یہ بوجہ اس کے ہے جو آگے بھیجا تیرے دونوں ہاتھوں نےاور یہ کہ بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا (اپنے) بندوں پر (10)
[8] وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا ، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا:﴿ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَا هُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾(الانعام؍121) ’’اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں ۔‘‘
[9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِيَ عِطۡفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِيُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔[10]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔