Tafsir As-Saadi
22:11 - 22:13

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو عبادت کرتے ہیں اللہ کی اوپر ایک کنارے کے ، پس اگر پہنچے اس کو بھلائی تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اس پراور اگر پہنچے اس کو کو ئی فتنہ (آزمائش) تو الٹا ، پھر جاتا ہے اوپر اپنے منہ کے،خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت میں ، یہی ہے وہ خسارہ صریح (11) وہ پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو جو نہیں نقصان پہنچا سکتا اسے اور نہ وہ نفع دے سکتا ہے اسے، یہی ہے وہ گمراہی دور کی (12) وہ پکارتا ہے اس شخص کو کہ نقصان اس کا (یقینا) زیادہ قریب ہے اس کے نفع سے، البتہ برا ہے وہ کارساز اور البتہ برا ہے وہ ساتھی (13)

[11] یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُنِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ﴾ یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ ایمان پر نہیں بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں ۔ ﴿ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ﴾ اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے ﴿اِنۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ﴾ ’’پھر جاتا ہے اپنے چہرے پر۔‘‘ یعنی اپنے دین سے پھر جاتا ہے۔ ﴿خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ﴾ ’’خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔‘‘ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی کشادگی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کر دیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔
[13,12]﴿ يَدۡعُوۡا ﴾ ’’پکارتا ہے۔‘‘ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ﴾ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ﴾ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِهٖ ﴾ ’’ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’البتہ برا ہے والی۔‘‘ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ﴾ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔