Tafsir As-Saadi
22:5 - 22:7

اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔
[7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔