جو شخص گمان کرتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں مدد کرے گا اللہ اس (رسول) کی دنیا اور آخرت میں تو چاہیے کہ وہ دراز کرے ایک رسی آسمان تک ، پھر چاہیے کہ کاٹ دے (اسے) ، پھرچاہیے کہ وہ دیکھے کیا لے جاتی ہے تدبیر اس کی ، اس کے غصے کو؟ (15)
[15] یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہو جائے گا تو بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ﴿ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ ﴾ ’’پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔‘‘ رسول اللہﷺ سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهٗ ﴾ یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہﷺ کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپﷺ کے خلاف جنگ برپا کر سکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے… یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔ اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص! جو محمد رسول اللہﷺ سے عداوت رکھتا ہے، جو آپﷺ کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کر لے، رسول (ﷺ) کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرا غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہو گی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول (ﷺ) سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو منقطع کر سکتا ہے تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہو گی… بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ تو اپنے غیظ و عضب سے چھٹکارا پا سکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لیے کمر کیوں نہ باندھ لے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لیے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کر لیں ۔