Tafsir As-Saadi
22:26 - 22:29

اور جب مقرر کر دی ہم نے واسطے ابراہیم کے جگہ بیت اللہ کی (اور اسے حکم دیا) یہ کہ نہ شریک ٹھہرانا تو میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اور پاک کر تو میرا گھر طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدے کے لیے (26)اور تو اعلان کر دے لوگوں میں حج کا، وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل اور (سوار ہو کر) اوپر ہر دبلے (پتلے) اونٹ کے وہ (اونٹ) آئیں گے ہر دور دراز راستے سے (27)تاکہ وہ حاضر ہوں منافع کے لیے واسطے اپنےاور (تاکہ) یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا ان ایام میں جو معلوم ہیں اوپر ان کے جو دیے ہیں ان کو (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے، پس کھاؤ تم ان میں سے اور کھلاؤ فاقہ کش فقیر کو (28) پھر چاہیے کہ وہ دور کریں میل کچیل اپنا اورچاہیے کہ پوری کریں اپنی نذریں (منتیں ) اور چاہیے کہ وہ طواف کریں قدیم گھر کا (29)

[26] اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم u کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰؔهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ ﴾ ’’اور جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ۔‘‘ یعنی ہم نے ان کے لیے اسے مہیا کر دیا ، آپ کو وہاں رہنے کے لیے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیلi نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس مقدس گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں ۔ ﴿ وَّطَهِّرۡ بَيۡتِيَ ﴾ یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں ، ذکر، قراء ت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لیے عظیم ترین گھر ہو۔ ﴿وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لیے پاک کیجیے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں ، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انھیں کے لیے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شور و شغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں ۔ طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لیے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔
[27]﴿ وَاَذِّنۡ فِي النَّاسِ بِالۡحَجِّ ﴾ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ ﴾ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ﴾ ’’دوردراز کی تمام راہوں سے۔‘‘ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔حضرت خلیل u نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ ﴾تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جا سکتیں اور دنیاوی منفعتیں ، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں ۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔﴿ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیے۔‘‘ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لیے یہ قربانیاں میسر کیں … ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کر چکو ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآىِٕسَ الۡفَقِيۡرَ﴾ ’’تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔
[29]﴿ ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ ﴾ ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔‘‘ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہو گیا تھا ﴿ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ ﴾ اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں ، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ ﴿وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں ۔ اور شاید… واللہ اعلم… اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔