اجازت دی گئی ہے (جہاد کی) ان لوگوں کو کہ لڑائی کیے جاتے ہیں وہ، بسبب اس کے کہ بے شک وہ مظلوم ہیں اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر البتہ خوب قادر ہے (39) وہ لوگ جو نکالے گئے اپنے گھروں سے بغیر حق کے، صرف ان کے یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہےاور اگر نہ ہوتا دور کرنا اللہ کا لوگوں کو ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تو البتہ ڈھا دیے جاتے راہبوں کے خلوت خانے اور گرجےاور عبادت خانے یہودیوں کےاور مسجدیں کہ ذکر کیا جاتا ہے ان میں نام اللہ کا بہت اور البتہ ضرور مدد کرے گا اللہ اس کی جو مدد کرے گا اس (کے دین) کی، بے شک اللہ البتہ بہت قوت والا، غالب ہے (40) وہ لوگ کہ اگر ہم قدرت دیں ان کو زمین میں تو وہ قائم کریں نماز اور ادا کریں زکاۃ اور وہ حکم دیں اچھے (نیک) کاموں کا اور روکیں برے کاموں سے اوراللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام تمام امور کا (41)
[39] اسلام کی ابتداء میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ کرنے کی ممانعت تھی اور ان کو صبر کرنے کا حکم تھا، اس میں حکمت الہیہ پوشیدہ تھی۔ جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ستایا گیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر انھیں طاقت اور قوت حاصل ہوگئی تو انھیں کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دیدی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جن سے کافر لڑائی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے قبل مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ تھی پس اللہ نے انھیں ان لوگوں کے خلاف جہاد اور جنگ کی اجازت مرحمت فرما دی جو ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور انھیں کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت صرف اس لیے ملی کیونکہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، انھیں ان کے دین سے روکا گیا، دین کی وجہ سے ان کو اذیتیں دی گئیں اور ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا گیا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا قادر ہے۔‘‘ اس لیے اہل ایمان اسی سے نصرت طلب کریں اور اسی سے مدد مانگیں ۔
[40] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ ﴾ یعنی ان کو اذیتوں اور فتنے میں مبتلا کرکے اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ﴿ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ ﴾ یعنی ناحق اور ان کا گناہ اس کے سوا کچھ نہیں جس کی بنا پر ان کے دشمن ناراض ہوکران کو سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ ﴿ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ﴾ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے، یعنی ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں اور دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا گناہ ہے تو وہ ضرور گنہگار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس بات پر ناراض ہیں کہ اللہ تعالیٰ غالب اور قابل ستائش پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ جہاد کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ جہاد کا مقصد اقامت دین یا اہل ایمان کا کفار کی اذیتوں ، ان کے ظلم اور ان کی تعدی سے دفاع کرنا ہے جو اہل ایمان پر ظلم و زیادتی کی ابتدا کرتے ہیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ممکن بنایا جائے اور دین کے تمام ظاہری قوانین کو نافذ کیا جائے، اس لیے فرمایا:﴿وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ ﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے نہ ہٹاتا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجاہدین فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کرتا ہے۔ ﴿ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ ﴾ یعنی یہ بڑے بڑے معابد منہدم کر دیے جاتے ہیں جو اہل کتاب کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً:یہود و نصاریٰ کے معابد اور مسلمانوں کی مساجد۔﴿ يُذۡكَرُ فِيۡهَا﴾ ’’ذکر کیا جاتا ہے ان میں ‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں میں ﴿ اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا﴾ ’’اللہ کا نام بہت زیادہ۔‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں کے اندر نماز قائم کی جاتی ہے، کتب الہیہ کی تلاوت ہوتی ہے اور مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکے توکفار مسلمانوں پر غالب آجائیں ، ان کے معابد کو تباہ کر دیں اور دین کے بارے میں ان کو آزمائش میں مبتلا کر دیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جہاد جارح کی جارحیت اور ایذارسانی کا سدباب کرنے اور بعض دیگر مقاصد کے لیے مشروع کیا گیا ہے، نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ وہ شہر جہاں امن اور اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے، اس کی مساجد آباد ہیں جہاں دین کے تمام شعائر قائم ہیں ، یہ مجاہدین کی فضیلت اور ان کی برکت کی وجہ سے ہے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾(البقرۃ:2؍251) ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹاتا رہے تو زمین میں فساد برپا ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ جہان والوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے۔‘‘ اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ہم آج کل مسلمانوں کی مساجد کو آباد دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان مساجد میں ایک چھوٹی سی امارت اور ایک غیر منظم حکومت قائم ہوتی ہے حالانکہ ان پر اردگرد کے فرنگیوں کے خلاف جہاد لازم ہے بلکہ ہم ایسی مساجد بھی دیکھتے ہیں جو کفار کی حکومت اور ان کے انتظام کے تحت آباد ہیں ۔ اہل مسجد پر امن اور مطمئن ہیں حالانکہ کافر حکومتوں کو قدرت اور طاقت حاصل ہے کہ وہ ان مساجد کو منہدم کر دیں ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹائے تو یہ معابد منہدم کر دیے جائیں اور ہم نے تو لوگوں کو ایک دوسرے کو ہٹاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس اعتراض اور اشکال کا جواب، اس آیت کریمہ کے عموم میں داخل اور اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ جو کوئی زمانہ ٔجدید کی حکومتوں کے حالات اور ان کے نظام کی معرفت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ان حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والا ہر گروہ اور ہر قوم کو، اس مملکت کا رکن، اس کے اجزائے حکومت میں سے ایک جزو تصور کیا جاتا ہے خواہ یہ گروہ اپنی تعداد کی بنا پر اقتدار میں ہو، خواہ اپنی حربی استعداد یا مال یا علم یا خدمات کی بنا پر اقتدار میں شریک ہو۔ حکومتیں اس گروہ کے دینی اور دنیاوی مصالح و مفادات کی رعایت رکھتی ہیں اور اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اگر انھوں نے ان کے مصالح کی رعایت نہ رکھی تو حکومت کے انتظام میں خلل واقع ہو جائے گا اور حکومت کے بعض ارکان مفقود ہو جائیں گے۔ پس اس سبب سے دین کے معاملات قائم ہیں ۔ خاص طور پر مساجد کا نظم و نسق… اَلْحَمْدُللّٰہ… بہترین طریقے سے ہورہا ہے حتیٰ کہ بڑے بڑے ممالک کے درالحکومتوں میں مساجد کا انتظام انتہائی اچھے طریقے سے چل رہا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں ، اپنی مسلمان رعایا کی دل جوئی کی خاطر اس بات کا پورا خیال رکھتی ہیں ، حالانکہ ان نصرانی ممالک کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور حسد موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ بغض اور حسد ان کے درمیان روز قیامت تک موجود رہے گا۔ پس مسلمان حکومت، جو اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، ان کے آپس کے افتراق اور حسد کی وجہ سے ان کی جارحیت سے محفوظ رہتی ہے۔ کوئی ملک اس مسلمان ملک کے خلاف اس خوف سے جارحیت کا ارتکاب کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ کسی اور ملک کی حمایت اور مدد حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کا مشاہدہ کروائے جس کا اس نے اپنی کتاب میں وعدہ کررکھا ہے اور دین کی طرف مسلمانوں کے رجوع کی ضرورت کے شعور کے اجاگر ہونے کی بنا پر اس نصرت کے اسباب ظاہر ہو گئے ہیں … وللہ الحمد … اور شعور عمل کی بنیاد ہے … ہم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا جو واقع کے مطابق سچ ثابت ہوا، فرمایا:﴿ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ پوری قوت کا مالک اور غالب ہے اس کے سامنے کسی کی کوئی مجال نہیں ۔ وہ تمام مخلوق پر غالب ہے ان کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ پس اے مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ اگرچہ تم تعداد اور سازوسامان کے اعتبار سے کمزور ہو اور تمھارا دشمن طاقتور ہے مگر تمھیں قوت والی اور غالب ہستی پر بھروسہ اور اس ذات پر اعتماد ہے جس نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو تخلیق کیا۔ پس وہ تمام اسباب اختیار کرو جن کو استعمال کرنے کا تم کو حکم دیا گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، وہ ضرور تمھاری مدد کرے گا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰهَ يَنۡصُرۡؔكُمۡ وَيُثَبِّتۡ اَقۡدَامَكُمۡ ﴾(محمد:47؍7) ’’اے ایمان لانے والے لوگو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اے مسلمانو ! ایمان اور عمل صالح کی خاطر اٹھ کھڑے ہو! ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١۪ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِي ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا١ؕ يَعۡبُدُوۡنَنِيۡ۠ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِيۡ شَيۡـًٔـا﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین کی خلافت عطا کی تھی، ان کے دین کو ان کے لیے مستحکم کردے گا، جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘
[41] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی علامت بیان فرمائی ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی علامت ان کی پہچان ہے اور جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے مگر وہ اس وصف سے متصف نہیں ہوتا تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ علامت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی اگر ہم ان کو زمین کا مالک بنا دیں اور ان کو زمین کا تسلط بخش دیں اور کوئی ان کی معارضت اور مخالفت کرنے والا باقی نہ رہے ﴿ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ تو وہ نماز کے اوقات میں نماز کو اس کی تمام حدود، ارکان، شرائط، جمعہ اور جماعت کے ساتھ قائم کرتے ہیں ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ جو ان پر خاص طور پر اور رعایا پر عام طور پر واجب ہے، یہ زكاة وہ مستحقین کو اداکرتے ہیں ﴿ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ۔ (معروف) ہر اس کام کو شامل ہے جو عقلاً اور شرعاً حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اعتبار سے نیک ہو۔ ﴿ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے وہ روکتے ہیں ۔‘‘ ہر برائی جس کی قباحت شرعاً اور عقلاً معروف ہو (منکر) کہلاتی ہے۔ کسی چیز کے حکم دینے اور اس کے منع کرنے میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ پس جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تعلیم و تعلم پر موقوف ہے تو لوگوں کو تعلیم اور تعلم پر مجبور کرتے ہیں اور جب امربالمعروف اور نہی عن المنکر، شرعی طور پر مقرر کردہ یا غیر مقرر کردہ تادیب پر موقوف ہو، مثلاً:مختلف قسم کی تعزیرات تو انھیں قائم کرتے ہیں ۔ جب یہ معاملہ اس بات پر موقوف ہو کہ لوگ کچھ امور کے خوگر ہوں جن کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اتمام ممکن نہیں تو ان پر ان امور کو لازم کیا جائے گااور اسی طرح معاملات ہیں کہ ان کے بغیر اگر امربالمعروف یا نہی عن المنکر ممکن نہ ہو تو ان کا اہتمام ضروری ہو گا۔﴿وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اچھا انجام تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن بادشاہوں کو بندوں پر تسلط بخشا اور انھوں نے اللہ کے حکم کو نافذ کیا ان کی حالت رشد و ہدایت پر مبنی اور ان کی عاقبت قابل ستائش ہے۔اور وہ بادشاہ، جو جبر سے لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی خواہشات نفس کو ان پر نافذ کرتا ہے تو اقتدار اگرچہ ایک مقررہ وقت تک اس کے پاس رہتا ہے تاہم اس کا انجام ناقابل ستائش، اس کی حکومت نامقبول اور اس کی عاقبت مذموم ہے۔