اور واسطے ہر امت کے مقرر کی ہے ہم نے قربانی تاکہ یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا اوپر ان کے جو دیے انھیں (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے پس تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، سو اسی کے لیے تم مطیع ہو جاؤاور خوشخبری سنا دیجیے عاجزی کرنے والوں کو (34) وہ لوگ کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا تو ڈرجاتے ہیں ان کے دل اور وہ صبر کرنے والے ہیں اوپر اس (تکلیف) کے جوپہنچتی ہے انھیں اوروہ جو قائم کرنے والے ہیں نمازاور اس میں سے جو رزق دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (35)
[34] ہم نے گزشتہ تمام قوموں کے لیے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھو تاکہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لیے فرمایا:﴿ لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہونا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کر دینا، اس لیے فرمایا:﴿ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا ﴾ یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرو، اس کے سوا کسی کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اس کی اطاعت ہی سلامتی کے گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ﴾ یعنی عاجزی کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی خوشخبری دو (اَلْمُخْبِت) سے مراد اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرنے والا، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا اور اس کے بندوں کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آنے والا ہے۔
[35] پھر اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور صرف اس کے خوف ہی کی بنا پر محرمات کو ترک کر دیتے ہیں ﴿ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمۡ ﴾ان پر جو مصیبتیں اور سختیاں آتی ہیں اور انھیں جن مختلف اقسام کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان پر صبر کرتے ہیں ، ان میں سے کسی چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ناراضی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے رب کی رضا کے حصول کی خاطر صبر کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے اجروثواب کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَالۡمُقِيۡمِي الصَّلٰوةِ﴾ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو کامل اور درست طریقے سے قائم کرتے ہیں ، یعنی وہ اس کی ظاہری اور باطنی عبودیت اور اس کے تمام فرائض و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام نفقاتِ واجبہ، مثلاً:زكاة، کفارات، بیویوں ، غلاموں اور اقارب پر خرچ کرنا اور تمام نفقات مستحبہ جیسے تمام قسم کے صدقات ہیں ، کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حرف جار (من) کا استعمال کیا ہے جو تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے، اس میں سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے رغبت کرے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے، یہ اس کا بہت معمولی حصہ ہے، اس رزق کے حصول میں بندے کی قدرت کو کوئی دخل نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے حصول کو آسان نہ بناتا اور اس کو عطا نہ کرتا تو بندہ اسے حاصل نہ کر سکتا… پس اے وہ شخص! جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خرچ کر، اللہ تعالیٰ تجھ پر خرچ کرے گا اور اپنے فضل سے تیرے رزق میں اضافہ کرے گا۔