Tafsir As-Saadi
22:52 - 22:54

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب وہ تلاوت کرتا تو ڈال دیتا شیطان اس کی تلاوت میں (کچھ اپنی طرف سے) پس مٹا دیتا اللہ اس (وسوسے) کو جو ڈالتا شیطان، پھر محکم (پختہ) کر دیتا اللہ اپنی آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے (52) تاکہ بنا دے اللہ اس کو جو ڈالتا ہے شیطان آزمائش ان لوگوں کے لیے کہ ان کے دلوں میں روگ ہےاور وہ جو سخت ہیں دل ان کےاور بے شک ظالم تو (پڑے ہوئے) ہیں مخالفت میں دور کی (53) اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو دیے گئے علم، کہ بلاشبہ یہ (قرآن) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس وہ ایمان لائیں اس کے ساتھ، پھر جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل اور بے شک اللہ البتہ ہدایت دینے والا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، طرف سیدھے راستے کی (54)

[52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لیے جو کچھ اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے ﴿مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى ﴾ ’’جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی‘‘ یعنی قراء ت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا ﴿ اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِيۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ﴾ ’’تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کر دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قراءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قراء ت کے مناقض (مخالف) ہوتا … حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے اپنی وحی کی حفاظت کی ہے تاکہ اس میں کوئی اشتباہ یا اختلاط واقع نہ ہو۔ مگر اس شیطانی القاء کو استقرار اور دوام نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارض ہے جو پیش آتا ہے پھر زائل ہو جاتا ہے اور عوارض کے کچھ احکام ہیں اس لیے فرمایا: ﴿ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اس القاء کو زائل کرکے باطل کر دیتا ہے اور واضح کر دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں ہیں ۔﴿ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ﴾ یعنی پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم اور متحقق کر دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی آیات شیطانی القاء کے اختلاط سے محفوظ اور خالص رہتی ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کامل قوت و اقتدار کا مالک ہے۔ وہ اپنی قوت کاملہ سے اپنی وحی کی حفاظت کرکے شیطانی القاء کو زائل کر دیتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ وہ اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے۔
[53] پس یہ اس کے کمال حکمت کا حصہ ہے کہ اس نے شیاطین کو القاء کا اختیار دیا تاکہ اس امر کا حصول ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ فِتۡنَةً ﴾ ’’تاکہ کر دے اللہ القائے شیطانی کو آزمائش۔‘‘ لوگوں کے دو گروہوں کے لیے فتنہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿ لِّلَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ جن کے دلوں میں کمزوری ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کامل اور تصدیق جازم معدوم ہیں ۔ پس یہ القاء ایسے دلوں پر اثر کرتا ہے جن کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ بھی ہوتا ہے، جب وہ اس شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو شک و ریب ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّالۡقَاسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ یعنی (دوسرا گروہ) وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی قساوت قلبی کی بنا پر کوئی وعظ و نصیحت اور کوئی زجر و توبیخ ان پر اثرکرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔ پس جب وہ شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو اسے اپنے باطل کے لیے حجت بنا لیتے ہیں اور اس کو دلیل بنا کر جھگڑا کرتے ہیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ،اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَفِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ یعنی یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی، حق کے ساتھ عناد اور اس کی مخالفت میں راہ صواب سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ پس شیطان جو کچھ القاء کرتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لیے فتنہ بن جاتا ہے اور یوں ان کے دلوں میں جو خبث چھپا ہوتا ہے ظاہر ہو جاتا ہے۔
[54] رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں ۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں ، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔ ﴿ فَيُؤۡمِنُوۡا بِهٖ ﴾ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخۡبِتَ لَهٗ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴾(النجم:53؍19 ،20) ’’بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں ؟‘‘ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی ۔ وان شفاعتھن لترتجی) ’’یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘ اس طرح رسولﷺ کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانیa نے اپنے رسالہ ’’نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق‘‘ میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)