کیا نہیں دیکھا آپ نے یہ کہ بے شک اللہ ہی نے نازل کیا آسمان سے پانی، کہ ہو جاتی ہے (اس سے) زمین سرسبز، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بین، باخبر ہے (63) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ، البتہ وہی بے پروا، قابل تعریف ہے (64)
[63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آیات الٰہی میں تفکروتدبر کی ترغیب ہے، جو اس کی وحدانیت اور اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ﴾ یعنی کیا تم نے چشم بصارت اور چشم بصیرت سے دیکھا نہیں ؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’بے شک اللہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔‘‘ اس سے مراد بارش ہے جو پیاسی اور قحط زدہ زمین پر، جس کے کنارے غبار آلود اور اس میں موجود تمام درخت اور نباتات خشک ہو چکے ہوتے ہیں ، نازل ہوتی ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے، ہر قسم کا خوبصورت لباس پہن لیتی ہے اور اس طرح زمین خوش منظر بن جاتی ہے۔بلاشبہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا، مردوں کو ان کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد زندہ کرے گی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ ﴾(اللطیف) سے مراد وہ ہستی ہے جو تمام اشیاء کے باطن، ان کے مخفی امور اور ان کے تمام بھیدوں کو خوب جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو اَن دیکھے راستوں سے بھلائی عطا کرتی ہے اور ان سے برائی کو دور کرتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنے انتقام میں اپنی قوت اور اپنی قدرت کاملہ کا نظارہ کرواتا ہے اور جب بندہ ہلاکت کے گھڑے کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے تو اس پر اپنے لطف کا اظہار کرتا ہے۔ یہ بھی اس کے لطف و کرم کا حصہ ہے کہ وہ بارش ہونے کی جگہوں اور زمین کے سینے میں چھپے ہوئے بیجوں کو جانتا ہے۔ وہ بارش کے اس پانی کو اس بیج تک پہنچاتا ہے، جو مخلوق سے مخفی ہے پھر اس سے مختلف انواع کی نباتات اگاتا ہے۔ ﴿خَبِيۡرٌ﴾ وہ تمام امور کے رازوں اور تمام سینوں کے بھیدوں کی خبر رکھتا ہے۔
[64]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی قوت، حکمت اور اقتدار کامل سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ اس معاملے میں اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡغَنِيُّ ﴾یعنی وہ بذاتہ غنی ہے، جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق و تام کا مالک ہے یہ اس کی غنائے کامل ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں وہ ذلت سے بچنے کے لیے ان کو مددگار بناتا ہے نہ قلت کو دور کرنے کے لیے ان کے ذریعے کثرت حاصل کرتا ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ اولاد۔ یہ اس کی غنا ہے کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے کسی لحاظ سے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے، وہ مخلوق کو کھلاتا ہے کوئی اس کو نہیں کھلاتا۔ یہ اس کی غنا ہے کہ تمام مخلوق اپنے وجود میں آنے، اپنے تیار ہونے، اپنی امداد میں اور اپنے دین و دنیا میں اسی کی محتاج ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام لوگ زندہ و مردہ سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں ، پھر اس میں سے ہر شخص اپنی اپنی خواہش و تمنا کے مطابق اس سے سوال کرے اور وہ ان کو ان کی تمنا اور خواہش سے بڑھ کر عطا کر دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس کا دست عطا دن رات خیر و برکات عنایت کرتا رہتا ہے، اس کا فضل و کرم تمام جانداروں پر حاوی و ساری ہے۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس نے اپنے اکرام و تکریم والے گھر میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور سے اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور وہ اپنے اسماء میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے ہیں ۔ وہ اپنی صفات میں محمود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ وہ اپنے افعال میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام افعال عدل و احسان اور رحمت و حکمت پر مبنی ہیں ۔ وہ اپنی تشریع میں محمود ہے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح مصلحت ہو اور وہ اسی چیز سے روکتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح فساد ہو۔ وہ جس کے لیے ہر قسم کی ستائش ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور ان کے بعد جو کچھ وہ چاہے، سب کو لبریز کر رکھا ہے۔ وہ ہستی کہ بندے اس کی حمد و ثنا بیان کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ وہ اس حمد و ثنا سے بالا و بلند تر ہے جو بندے بیان کرتے ہیں ۔ وہ جسے اپنی توفیق سے نوازتا ہے تو اپنی توفیق پر قابل تعریف ہے اور جب اس سے علیحدہ ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر بھی قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی حمد و ثنا میں غنی اور اپنی غنا میں قابل تعریف ہے۔