Tafsir As-Saadi
23:12 - 23:16

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔
[13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔
[14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔
[15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔
[16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘