اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20)
[17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔
[18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘
[19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔
[20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔