اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع کرواور سجدہ کرو اور عبادت کرو اپنے رب کی اور کرو بھلائی (کے کام) تاکہ تم فلاح پاؤ (77) اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں جیسا کہ حق ہے اس کے جہاد کرنے کا اسی نے پسند کیا تمھیں اور نہیں رکھی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی (مانند) دین تمھارے باپ ابراہیم کے اسی نے نام رکھا تمھارا مسلمان اس (قرآن) سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی ،تاکہ ہوں رسول اللہ(ﷺ) گواہ تم پراور تم ہو گواہ اوپر لوگوں کے، پس قائم کرو تم نماز اور ادا کرو زکاۃاور مضبوطی سے پکڑو تم اللہ کو، وہی کارساز ہے تمھارا، پس بہترین کارساز ہے وہ اور بہترین مدد گار ہے وہ (78)
[77] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لیے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لیے خالص کریں ۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کو انھی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہو گئی اسی کے لیے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔‘‘ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے… یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجرو توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ ﴿ هُوَ اجۡتَبٰؔىكُم ﴾ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے تمھیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمھارے لیے دین کو منتخب کرکے اسے تمھارے لیے پسند کرلیا ہے، تمھارے لیے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولﷺ کو منتخب کیا، اس لیے جہاد کو اچھی طرح قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔
[78] چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ سے بسااوقات کسی متوہم کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تعمیل طاقت سے باہر ہے یا جس کی تعمیل میں سخت مشقت ہے، اس لیے اس وہم سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ﴾ ’’اور نہیں کی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی۔‘‘ یعنی مشقت اور تنگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو انتہائی آسان اور سہل بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف انھی امور کا حکم دیا ہے، جس کو بجا لانا نفوس انسانی کے لیے نہایت سہل ہے جو ان کے لیے گراں بار ہیں نہ تھکا دینے والے ہیں ، پھر بھی اگر کوئی ایسا سبب پیش آجائے جو تخفیف کا موجب ہو تو اللہ تعالیٰ اس حکم کو ساقط کرکے یا اس میں کمی کرکے اس میں تخفیف کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے ایک شرعی قاعدہ اخذ کیا جاتا ہے اور وہ ہے (المشقۃ تجلب التیسیر) ’’مشقت اپنے ساتھ آسانی لے کر آتی ہے‘‘ (الضرورات تبیح المحظورات)’’ضرورت ممنوع چیز کو مباح کر دیتی ہے۔‘‘ بہت سے فروعی احکام اس قاعدہ کے تحت آتے ہیں جن کا ذکر احکام کی کتابوں میں معروف ہیں ۔﴿ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰؔهِيۡمَ﴾ یعنی مذکورہ دین اور احکام تمھارے باپ ابراہیم u کا دین ہیں جن پر وہ ہمیشہ عمل پیرا رہے، اس لیے تم بھی ان کا التزام کرو اور ان پر عمل پیرا رہو۔ ﴿ هُوَ سَمّٰؔىكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی اس نے کتب سابقہ میں تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے اور اسی نام سے تم مذکور و مشہور ہو یعنی ابراہیم u ہی نے تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے۔ ﴿ وَفِيۡ هٰؔذَا ﴾ اور اس کتاب اور اس شریعت میں بھی تمھارا نام ’’مسلم‘‘ ہی ہے یعنی قدیم اور جدید زمانے میں تمھیں ’’مسلم‘‘ کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ﴿ لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ﴾ تاکہ رسول تمھارے اچھے اور برے اعمال کی گواہی دیں ۔ ﴿وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾تم انبیاء و رسل کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا انھوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا کیونکہ تم بہترین، معتدل، بھلائی کے راستے پر گامزن اور امت وسط ہو۔﴿فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ نماز کو اس کے تمام ارکان، تمام شرائط و حدود اور اس کے تمام لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے زکاۃ مفروضہ ادا کرو۔ ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰهِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ اور اس بارے میں صرف اسی پر بھروسہ کرو اور اپنی قوت و اختیار پر اعتماد نہ کرو۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ ’’وہی تمھارا مولیٰ ہے‘‘ جو تمھارے تمام امور کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس وہ بہترین طریقے سے تمھاری تدبیر اور بہترین اندازے سے تم میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’پس کیا اچھا مولیٰ اور کیا اچھا مددگار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ بہترین سرپرست ہے۔ پس اس سے اس کا مطلوب و مقصود حاصل ہو جاتا ہے اورجو کوئی اپنی مصیبت دور کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا ہے تو وہ بہترین مدد گار ہے، اس سے اس مصیبت کو وہ دور کر دیتا ہے۔