پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44)
[43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔
[44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔
بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔