اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔
[24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔
[25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔
[26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘
[27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
[28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔
[29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘
[30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘