بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔