Tafsir As-Saadi
23:63 - 23:71

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71)

[63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
[65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
[66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔
[67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔
[68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟
[70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘
[71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟