Tafsir As-Saadi
23:72 - 23:72

یا آپ سوال کرتے ہیں ان سے اجرت کا؟ پس اجرت آپ کے رب کی بہت بہتر ہےاور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (72)

[72]﴿اَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ خَرۡجًا﴾ اے محمد ! (ﷺ) کیا ان کو آپ کی اتباع سے اس چیز نے روکا ہے کہ آپ ان سے اس کام پر کوئی اجرت طلب کرتے ہیں ؟ ﴿فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾(الطور:52؍40) ’’کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ‘‘ اور اس طرح آپ کی اطاعت سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ آپﷺ ان سے اجرت اور خراج طلب کرتے ہیں ؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ ﴿فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيۡرٌ١ۖ ۗ وَّهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ﴾ ’’آپ کے رب کی اجرت بہت بہتر ہے اور وہ بہترین روزی رساں ہے۔‘‘ یہ اسی طرح کا قول ہے جس طرح انبیاء کرام علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾(ہود:11؍51) ’’اے میری قوم! میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا‘‘ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾(ہود:11؍29) ’’میرا صلہ تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی انبیائے کرام علیہ السلام کی طرف سے لوگوں کو دعوت دینے میں یہ لالچ نہیں ہوتا کہ انھیں لوگوں کی طرف سے مال و دولت حاصل ہوگا۔ وہ تو صرف خیرخواہی اور ان کے اپنے فائدے کی خاطر ان کو دعوت دیتے ہیں بلکہ انبیاء و مرسلین مخلوق کے لیے، خود ان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کی امتوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے اور تمام احوال میں ہمیں بھی ان کی اقتداء سے بہرہ مند کرے۔